Saturday, September 8, 2012

امن اور آشتی


امن اور آشتی
( The story of now and then)


Author: Abdul Basit Saim
ab_saim@hotmail.com
+82-10-2945-4810

کل یہاں جنوبی کوریا کے ایک تفریحی مقام پر جانے کا اتفاق
ہوا۔ ہان یانگ یونیورسٹی سے کم و بیش دو گھنٹے کی مسافت پر واقع یوای نارو کا یہ پوائنٹ دنیا  میں جنت نہ صحیح ،[ کہ یہ میرے عقیدے سے متصادم تشبیہہ ہے]، لیکن ایک سحرانگیز رومانوی اور روح پرور مقام ضرور ہے۔۔دریائے ہان کے کنارے کوریائی سبزہ اور اس میں ہوا سے اٹھکیلیاں کرتے پھول مخملی اداوں کا ہر وہ گیت گا رہے تھے ، جو ہم بچپن میں پرستان کی کہانیوں اور کوہ قاف کے افسانوں میں

پڑھتے آئے ہیں۔  سورج  مغرب میں واقع سئیول ٹاور سے گلے مل رہا تھا اور شام
 دھیمے قدموں سے ننگے پاوں دریا کے پانی میں اتر رہی تھی۔۔۔۔

بلند وبالا عمارات اور جھلملاتی روشنیوں سے آراستہ سڑکیں اس تفریح گاہ کے
 دونوں طرف چاک و چوبند پہرے داروں کی طرح استادہ موجود تھیں۔۔۔
میں نے اور دیگر دوستوں نے بیٹھنے کے لئے جو جگہ منتخب کی، ، بلکہ سچ کہئے تو جو جگہ ہمیں بیٹھنے کو ملی، اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب خاموشی کی دھن پر جگمگاتے دریا کے سینے پر پل تھے، جو تعمیراتی اسلوب کی الگ کہانی ہیں۔۔۔۔




مگر میں یہاں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ننھے منے بچے، چلتے پھرتے بوڑھے، سائکلنگ ٹریک پر لہراتے نوجوان، مخملی گھاس کی آغوش میں حسبِ طلب اٹھکیلیاں کرتے رومانوی جوڑے، فضا میں دھن بکھیرتے ہوئے موسیقی ساز اور  چند ایک نشے میں دھت گرتے پڑتے لوگ، میری نظروں میں گڑ رہے تھے۔۔


 میں ان لوگوں میں سے ہوں ، جو ملک، مذہب اور ماں باپ کو گالی دینا گناہ سمجھتے ہیں، مجھے رہ رہ کر خون آلود سڑکیں یاد آرہیں تھیں، جو میرے ملک کا مقدر بن چکی ہیں۔۔۔مجھے ابھی ایک ہی ہفتہ ہوا ہے، پیارے پاکستان سے آئے ہوئے۔۔۔ میں دیکھ کر آیا ہوں کہ ہم نے جو ملک خون بہا کر حاصل کیا تھا، وہاں اب بھی خون بہہ رہا ہے۔۔۔مگر اس بار نہ سکھ حملہ آور ہیں نہ ہندو شر انگیز۔۔۔۔


منٹو پارک لاہور ہو، شاہ شمس پارک ملتان یا لال سوہانرا بہاولپور۔۔۔منظر اپنی موت کے منتظر نظر آتے ہیں۔۔۔ خوف بچوں کی شرارتوں کا خون چوس رہا ہے اورڈر بارود کی بو کی طرح گلیوں ، ، چوراہوں سڑکوں میں اڑتا پھرتا ہے۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔ہم نہ اسلامی بن سکے، نہ فلاحی، نہ جمہوری۔۔۔۔ان تمام مسائل اور حقائق کی
بحث سے قطع نظر ، میں امید کی کرنیں ڈھونڈتا رہا، جو کبھی مرتی نہیں ہیں۔۔۔۔۔
امید کی ایک کرن تو ابھی ابھی جنوبی کوریا کی فضائی حدود سے اتر کر آئی ہے۔۔۔۔ کم و بیش ستر سے زیادہ فرزندانِ مملکت  حصول تعلیم کی خاطر یہاں آئے۔۔۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نہیں ان غریب کسانوں، مزدوروں، ہاریوں اور دہقانوں کے سکالرشپ پر، جن کو دو وقت کی روٹی مل جائے تو عید کہلاتی ہے۔۔۔
اس پاکستان کے بیٹے ہیں ہم ، جس کے سینے پر دہشت گردی ناسور بن کر پنپ رہی ہے۔۔۔ جس کے کچے گھروں کو سیلاب کا سانپ ہر ساون میں ڈس جاتا ہے۔۔۔۔جس کی چٹانوں پر اب بھی زلزلہ زدہ مکانات کل کی آس لگائے زندہ ہیں۔۔۔
میں بھی آج کی دنیا میں جینا چاہتا ہوں، مگر مجھے تو نہیں بھولتا، کہ مسجدوں ، بازاراوں اور چوکیوں پر دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کے پچاس پچاس ہزار کے چیک ابھی تک کیش نہیں ہو سکے۔۔۔۔مرنے والوں کی بن بیاہی بیٹیوں کو لاکھ روپے کی امداد تک نہیں ملی۔۔۔۔۔ 

تصویر کا دوسرا رخ بھی ہو گا۔۔۔ مگر مری امید کی کرن مجھے عزیز ہے۔۔۔ میں تو سوچتا ہوں کہ یہ سپوت گھر لوٹیں گے۔۔۔۔ کماو پتر بن کر۔۔۔ الیکٹرانکس کی ایجادات ان کے ہاتھوں میں ہوں گی۔۔کیمِائی تجربات و تجزیات کی دنیا ان کے پاوں چھو کر ان سے ملے گی۔۔ ادویہ سازی کے میناراتی تصور ان کے دم سے زندہ ہو گیں۔۔ معاشرتی، معاشی ، ثقافتی و نفسیاتی فلسفوں کی کتابیں ان کے ہاتھوں پر بیعت کریں گی۔۔  یقینا طبی و طبعی ، نباتاتی و جماداتی تکنیکی و میکانی کہکشاوں پر ان کے نام کے ستارے بھی ہوں گے۔۔۔۔ اور یہی وہ نقطہ ہو گا، جہاں سے وطن کی مرجھائی ہوئی آنکھوں میں زندگی کی کرنیں دوڑیں گی۔۔۔

مگر مجھے ایک خوف بھی ہے۔۔۔وہی جس کا ذکر اشفاق صاحب مرحوم کیا کرتے تھے، کہ جن قوموں سے علم چھن جائے، اس کے افراد غیر دنیا کی ترقی اور علمی استعداد سے مرعوب ہو کر اپنے ملک، مذہب اور گھر سے نفرت کرنے لگتے ہیں، اور ایسے افراد صحیح معنوں میں نابلد رہتے ہیں۔۔۔ 


یوای نارو کی خوبصورتی کی قسم۔۔ میں اپنے گھر سے کبھی نفرت نہیں کروں گا۔۔۔ اور میرے جیسے کئی آشفتہ سر ہوں گے، جو کرہ ارض کی خوبصورتیوں کے موتیوں کی مالا بنا کر اپنے گھر لوٹیں گے۔۔۔۔ جہاں بوڑھی مٹی مرتی ہوئی امیدیں لے کر منتظر ہے۔۔۔ جہاں لاکھوں یواینارو امن ڈھونڈتے رہتے ہیں۔۔جہاں راوی ، ستلج چناب ایک عمر سے اپنے کناروں پر مخملی گھاس کے منتظر ہیں اور جہاں شام محبت کی پازیب پہن کر جھلملاتے پانی میں اترنے کی خواہش میں بوڑھی ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے کہ علم کی دولت سے مقام پانے والے یہ سپوت ، کماو پتر بن کر گھر لوٹیں گے۔۔۔اور دھرتی کا قرض نفع سمیت واپس لوٹائیں گے۔۔۔۔۔۔انشاء اللہ 

Monday, April 23, 2012

Saying HELLO to Spring......

 (A few Pictures and Comments by A.B. Saim )  

"Whenever green,I think Its YOU inside me,..........."


 "If your past is darkish, you can have a brighter contrast of your future."


 "If you can touch the flower's heart, U can touch the sky indeed."


 "I know I have NEW people to live with, But I have my eyes all through the seasons passed.."


 "Stars are in your eyes; not always in the skies.."


 "Comparing the Nature to Science, I always have a silent end......."


 "Looking a tree from a window is far less beautiful than looking at the same window through the same tree.."


 " Rigid in believes, wavy in moods and fragrant in relations is the man inside me.."



 " The nature invites us, but we are just passed and set at our cyclic positions..."


 "Even if you are not loved, You have no excuse to hate...."


 "Feeling you around is the only asset of mine in the hour of loneliness."


 "Those who are nearer to you are not always better for you..."


 " Feeling the LOVE is stronger than capturing the flower heart...."


 " Whenever lost in my dreams, I have a stary nite or a blossoming day.."


 "Determination is carved on ones face as a mark of victory.."


 " You can create love in your enemies, once you know what love is..."


" If you donot have leaves to offer your shade, offer your colors to the people"

 "The Life is Happiness and Sadness side by side."


 "If you can touch the flower's heart, U can touch the sky indeed." 


"A big smile can have a very smile reason." 


  "Even among-st the wildish realities, there are a few with colorful meanings..."


 "Even if you are not loved, You have no excuse to hate...."


 "Feeling you around is the only asset of mine in the hour of loneliness."


 "When you have full of blossoms, you have half to live...." 


" Whenever lost in my dreams, I have a stary nite or a blossoming day.."

>....................................................<



Wednesday, March 7, 2012

الرجی

الرجی
[مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو]

آج ماسٹر  انور کے گھر بہت رونق تھی۔ اس کا بیٹا اعلی تعلیم کے لئے ولایت جا رہا تھا۔ اس کی خوشی کی انتہا تھی کہ اس نے اپنے پتر رفیق  کا سامان تک خود باندھا تھا۔ دوست یار، رفیق کو فیقا کہا کرتے۔ مگر جب سے وہ شہر کے بڑے اسکول سے پڑھ کر آیا تھا ، نہ تو وہ بچپن کے دوستوں کے ساتھ ذیادہ بیٹھنا پسند کرتا اور نہ ہی ان کے مزاق کو سراہتا۔۔۔۔
لیکن کچی مٹی پہ چلنے والے کیا جانیں کہ شہری بابو کو کیا بھاتا ہے کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
پتر۔ کچھ وقت پنڈ میں گزار لے۔۔۔اور کتنا پڑھے گا"۔۔۔ فیقے کی ماں بھی بڑی بھولی تھی۔۔۔"

ماسٹر انورتو فیقے کا سامان پورا کرنے میں ہی جُتا رہا۔ وہ خوش جو بہت تھا۔۔۔                                                            "فیقے کی ماں۔ تجھے کیا پتا۔ پی۔ایچ-ڈی کتنی بڑی ڈگری ہے۔ دعائیں دے کے رخصت کر پتر کو"۔۔۔ رات کے کھانے پر کئ دن تک ماسٹر انور کو اپنی بیوی کے آنسو خود پونچھنے پڑتے۔۔
 اور آج کا دن تو فیقے کی ماں رویی ہی نہیں۔۔ پتا نہیں کیا قسم کھا ئ تھی۔ فیقا تیار تھا اور ماسٹر صاحب نے اپنی موٹر سائکل بھی نکال لی تھی۔ ماں نے ڈھیرساری دعائیں دیں اور گا وں والے دور تک فیقے اور اس کے باپ کو جاتا دیکھتے رہے۔ فیقے کی ماں اس وقت تک دروازے میں کھڑی رہی جب تک گا وں کی کچی 
سڑک پر اڑتی مٹی بیٹھ نہ گئ۔  اب جانے کہاں سے اس کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔



وقت اڑتا چلا گیا اور دو برس بیت گیے۔ فیقے کے ماں باپ  نے ایک ایک دن گناتھا، لاکھوں شکوے کیے تھے ۔ کبھی فون پر بات  ہو جاتی فیقے سے تو مہینوں خوشیوں میں گزار لیتے۔۔ اب تو فیقہ خود آرہا تھا ۔ ان کی خوشی میں پورا گاوں  شریک تھا ۔ فیقے کی ماں کی آنکھوں میں اب بھی آنسو تھے۔۔ جانے خوشی کے یا غم کے۔۔۔
فیقا ایک ہفتے کے لیے ہی آیا تھا اور آتے ہی بیمار پڑ گیا ۔ گاوں کی اڑتی مٹی سے اب اسے الرجی ہو رہی تھی۔۔ اور ڈاکٹر بھی تو کوئ نہیں تھا ان کے گاوں میں۔۔ خیر جیسےتیسے یہ سات دن گزرے۔۔اور فیقا واپس چلا گیا۔۔۔۔اور فیقے کے ماں باپ پھر سے دن گننے لگے۔۔۔ 
مگر فیقا پھر کبھی نہیں آیا۔۔بس  ماسٹر انور کے نام کی ایک ڈاک آئ تھی جس میں فیقے نے جاییداد کا حصہ مانگا تھا اور پیسے بجھوانے کے لیے کہا تھا۔ ماسٹر صاحب نے  فیقے کی ماں کو جب یہ بتایا کہ فیقے نے وہاں شادی کر لی ہے اور وہ 
....واپس نہیں آنا چاہتا  تو وہ صدمے سے ہی جان ہار گئ۔ ماسٹر صاحب زمینوں کا اور کیا کرتے۔۔اب تھا بھی کون ۔۔ان کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے فیقے کو سارے پیسے بجھوا دیئے اور اسکول کی نوکری بھی چھوڑ دی۔۔۔۔


ماسٹر صاحب اس کے بعد کہاں گئے اور کیا کرنے لگے، یہ تو میں نہیں جانتا لیکن میں فیقے کے باری میں جانتا ہوں۔۔۔۔ یہ فیقا پردیس کی گلیوں میں پھرتا ہے۔۔۔۔یہ نظر نہیں آتا اور لوگوں کے اندر اترنے کی صلاحیت رکھتاہے۔۔۔ یہ ہمیں اکساتا ہے اور ہمارے اندر کے انسان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ کبھی کبھی میرے اندر بھی اتر جاتا  ہے اور تب میں بھی ایک الگ سی زبان بولنے لگتا ہوں۔۔۔ جو میری زبان نہیں ہے۔۔۔۔جو میرے ماں باپ ، میری مٹی کی زبان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔
جب میں صائم سے فیقا بن جاتا ہوں تو کہنے لگتا ہوں۔"۔ملک نے مجھے دیا کیا ہے۔۔۔۔۔ کرپشن ہی کرپشن ہے پاکستان میں تو۔۔۔۔۔۔ یار الرجی ہو جاتی ہے ائرپورٹ سے نکلتے ہی۔۔۔۔ جابز ہی نہیں ہیں بھائ۔۔۔۔جائیں تو کریں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاست دیکھو، ملک 
کی"۔۔۔۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میں بالکل سیدھا سادہ سا بندہ ہوں ، مگر مجھے باتیں جلدی بھولتی نہیں ہیں۔۔میں  فیقے سے کہتا ہوں۔۔میرے اندر سے نکل پہلے۔۔۔ سامنے بیٹھ۔ ۔۔۔میں اسے اس کی کہانی سناتا ہوں اور اسے بتاتا ہوں کہ مجھے فیقا نہیں بننا۔۔۔  میں اسے بتاتا ہوں کہ یہاں کوریا میں ایک نسل نے قربانی دے کر دوسری کے لیے یہ آسانیاں پیدا کی ہیں ۔۔میں اسے بتاتاہوں کہ پروفیسر یانگ بانگ یو جو  میرے استاد ہیں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ایک نسل قربانی دے گی تو ہی اسے ترقی ملے گی۔۔ میں اسے بتاتاہوں کہ پروفیسر  یانگ بانگ کی ماں نے جب اسے پی۔ایچ-ڈی کے لیے بھیجا تھا تو ان کے گھر میں وہی بھوک تھی جو میرے گاوں میں ڈیرہ جماے بیٹھی ہے۔  مگر پروفیسر یانگ بانگ یو کو واپس آکر الرجی نہیں ہوئ۔ اس نے اپنے باپ کو زمین بیچنے کے لئے خط نہیں لکھا اور اس نے امریکہ جیسے بڑے ملک میں رہ جانے اور گھر بسا لینے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔۔۔


میں فیقے کو بتاتاہوں کہ اس کی ماں کیوں مر گئ تھی، اس کے باپ نے پڑھانا کیوں چھوڑ دیا تھا اور میں اسے اور بھی بتانا چاہتا ہوں مگر وہ بھاگ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اگر وہ کبھی اللہ نہ کرےآپ کے اندر آکر آپ کو ستاے تو اسے یاد کرا دیجئے گا ۔۔۔کہ

فیقے۔تیری دھرتی نے تجھے پہچان دی۔۔۔تو نے اسے کیا دیا؟
فیقے، تیری دھرتی نے تجھے اپنا خون دے کر پڑھنے بھیجا، تو نے اسے کیا دیا؟
فیقے، تجھے تیرے ملک نے  امید بنا کر کل کے لئے منتخب کیا، تو نے اسے کیا دیا؟
اگر وہ تب بھی نہ سمجھے ،  تو بس خدا حافظ اس کا۔۔۔۔۔
کیونکہ پردیس کی گلیوں میں ایسے فیقوں کی کمی نہیں ،جن کی مائیں دوازوں پر کھڑی، اڑتی خاک کو دیکھتے دیکھتے مر جاتی ہیں  اور اِن سے الرجی بھی برداشت نہیں ہوتی۔۔۔  دراصل ایسے لوگ اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ اپنے ملک،مذہب یا معاشرے کی فلاح اور ترقی کے لیے کردار ادا کر سکیں ۔۔ ان کے لیےیہی سزا ہی کافی ہے کہ یہ پردیس کی گمنام گلیوں میں فیقے بن کر خوارپھرتےہیں اور ان کی اگلی نسل کی اپنی کوئ پہچان نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 


>>>>>>>>>>>>><<<<<<<<<<<<




Friday, January 13, 2012

A Short Essay.....


This small set of paragraphs is a brief introduction of a detailed discussion that associates the un-controlled growth of science and its harmful effects on social society of Earthians.

"The most important and urgent problems of the technology of today are no longer the satisfactions of the primary needs or of archetypal wishes, but the reparation of the evils and damages by the technology of yesterday."  ~Dennis Gabor

                                            By: Abdul Basit SAIM


Aik Ghazal....



Aik Ghazal....
12-01-2012


Thursday, December 29, 2011

A story of Melting Ice

جلدی
 (پردیس اور دیس کے درمیان ایک دیوار )

Abdul Basit Saim
گزشتہ کتنے ہی دنوں سے برف ہین یینگ یونیورسٹی کے سینے سے لگ کر اندر ھی اندر گھل رھی تھی۔ اؑج صبح جب میں اپنی لیب جانے لگا تو احساس ھوا کہ کوریا میں رونے کا رواج بھی ھے۔ پیڑوں کی گود سے برف قطرہ قطرہ پگھل کر سورج کی طرف دیکھ رھی تھی۔ میں نے بھی آسمان کی طرف دیکھا۔نیلا صاف ستھرا آسمان ویسا تھا جیسا میں اپنے گھر کی چھت پر چھوڑ کر آیا تھا۔ سورج کی آ نکھوں میں بھی وہی کرنیں تھیں جو میرے گھر کی بیلوں کی ساتھ دن بھر آنکھ مچولی کھیلتی رھتی تھیں۔ فرق تھا تو صرف اتنا کہ ھوا کی ٹھنڈے تماچے میرے قدموں کی رفتار کو دھکیل رھے تھے۔ پہلی بار میں گھر بھی نہیں جا رھا تھا اور جلدی میں بھی تھا۔ مجھے خود پر رونے کی حد تک ھنسی آرھی تھی۔مگر نہ میں ھنسا اور نہ رویا ہی۔۔۔ 

دیار غیر میں ہر شخص اسی جلدی کے ھاتھوں کا شکار نظر آتا ھے۔ یونہی رونے اور ھنسنے کے بیچ کی کسی کیفیت میں۔۔۔جہاں اس کے اندر کی برف پگھلتی تو ھے مگر قطرہ قطرہ ھو کر۔۔مجھے یاد ھےکہ ہم دس کے قریب لوگ جوا علٰی تعلیم کی خاطر ایک ھی فلایٹ سے جنوبی کوریا آرہے تھے،اتنی ھی جلدی میں تھے جتنی جلدی میں یہاں سے جانے والے اپنا سامان باندھ رہے ھیں۔ ھم میں سے کچھ لوگ دم رخصت پاکستان کے لیے جو زبان استعمال کر رھے تھے وھی مغلظات کوریا سے کوچ کرنے والوں کی گفتگو سے چھلک رھی تھیں۔وہ ایک بار پھر جلدی میں ہیں جبکہ انھیں گھر بھی نہیں جانا۔۔۔۔
یہ جلدی ہی در اصل پردیس کی وہ پہلی بیماری ہے جو دیس چھوڑنے سے پہلے ھی آدمی کو آن دبوچتی ھے اور میں جانتا ھوں کہ یہ بیماری آدمی کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک وہ زندہ یا مردہ دیس واپس نہ لوٹ جاؑے۔

ھمارے لوگوں کو بہت جلدی ھے۔گاڑی کی مثال لے لیں ،پہلے گاڑی سیکھنے کی جلدی۔ سیکھ لیں تو بھگانے کی جلدی۔ اور اسی جلدی میں زندگی ھارنے میں بھی جلدی کر جاتے ھیں ۔ بات یہاں تک کی ھوتی تو خیر تھی مگر ھمیں تو اب اپنے رسوم، عقیدے اورمذھب و معاشرت سے نکلنے کی بھی جلدی ھے۔۔۔ ھونا تو یہ چاھیے تھا کہ اپنے مذھب کی رسوایؑ اور ملک کی زبوں حالی کا احساس کروٹ کروٹ سوچ اور فکر کی گہرایوں کو جنم دیتا۔ مٹی سے کونپل ، کونپل سے پھول اور پھول سے خوشبوتراشنے کا سلیقہ سکھلاتا۔ لیکن ھم نے الٹا ھی سبق لیا۔ درجہ بدرجہ منزل طے کرنے کو زوال کا سبق جانا اور ذلت کی ایک نٓی نسل ایجاد کر ڈالی۔۔۔وہ یہی جلدی ہے،جس نے ھمیں گھر سے تو نکلوایا ھی گھاٹ کا بھی نہیں رھنے دیا۔

کجا یہ کہ ھم اینٹ در اینٹ گھر کی گرتی ھویؑ دیواروں کو استوار کرتے،مرجھاتے پھولوں کے ماتھے پرآنسو آنسو شبنم چھڑکتے۔ ھوا اور صیاد کی آنکھوں کا نشانہ باندھتے، ہم نے زبان کو گھوڑے پر بٹھا دیا اور لگے دھرتی کے پاک چہرے پر کیچڑ اچھالنے۔۔ "پاکستان تو بنا ھی ٹوٹنے کے لیے ھے" ۔ پاکستان میں کیا رکھا ھے" پاکستان جا کر کیا کریں گے،اسلام نہیں انسانیت مذھب ھے میرا (جو میرے نزدیک الگ ھو ہی نہیں سکتے)،مسلمان بس بیک ورڈ اور متعصب لوگوں کا دوسرا نام ھے" اور جانے کیا کیا ان جلدی کے مریضوں کے منہ سے نھیں نکلتا۔ اور یہی دراصل اس مرض کی نشانی بھی ھے۔ دوسری نشانی یہ ھے کہ یہ لوگ اپنے ملک میں تیس ھزار پر پڑھانا اپنی صلاحیتوں کے ساتھ زیادتی سمجھتے ھیں جبکہ پردیس میں لاکھ روپے پر شراب خانوں پر کام کرنے میں بھی انہیں کویؑ کجی نظر نہیں آتی۔جلدی کے ان مریضوں کو ملک سے اتنا ھی لگاو ھے جتنا نیوز کاسٹر کوخبر سناتے سمے کسی مقتول کے رشتہ داروں سےھوسکتا ھے۔۔۔۔ مگر ان مریضوں کی ان جلد بازیوں سے کتنے لوگ، کتنی امیدیں، کتنے خواب قدموں تلے روندے جاتے ھیں ، انھیں کیا خبر ہو۔

آج پاکستان اور اسلام، دونوں اسی کرب کے عالم میں سے گزر رھے ھیں،جہاں لوگوں کو اپنی ذات اور اپنے حالات میں ھی عروج و زوال کے زمانے نظر آنے لگے ھیں۔۔گھر میں لگنے والی آگ کو بجھانے کی بجاےانھیں بے گھری میں چین ملتا ھے۔ ان سے جو دیواریں کھڑی نہیں ھوتیں ،یہ انہیں گالیاں بکنے لگتے ھیں۔ان لوگوں کو بھول جاتا کہ آینے میں خواہ کتنی ھی بد صورت تصویر کیوں نہ ھو، آیینہ پر پتھر مارنے سے تین کام ھوتے ھیں ۔ ایک یہ کہ آیینہ ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرا یہ کہ برایؑ کا عکس چھپ جاتا ھے۔اور تیسرا یہ کہ اچھایؑ کی شبیہھ دیکھنے کی صلاحیت جاتی رہتی ھے


مری اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہےکہ ٖخدارا اپنے مذھب اور ملک کی شناخت بنو،گرتی ھوی دیواروں کو سہارا دو،اپنی مضبوطی اپنی صلاحیتوں کو آفاقی بناو،ورنہ یہ خود کو بچانے کی تہذیب آدمی کو نیست، لشکروں کو مفتوح اور قوموں کو نابود کر دیتی ہے۔ اور اس نیست و نابودیت کا ایک بڑا سبب یہی جلدی کی بیماری ہی جس کی گرفت میں بے روزگار تو آھی جاتے تھے ، اب پڑھے لکھے افراد بھی مستقبل،امن،اور ترقی کے نام پر ان قوم کش اور مذھب فراموش جرثوموں کی زد میں آ رہے ھیں۔

 ھمارے گھر کو بہت ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جو بدن سے لاکھ غربت مارے ھوں، دکھ کی داستان جن کے ماتھے پر داغ بن کر جگمگا رہی ھو اور سینے سے حسرتوں کا پسینہ بہہ رہا ہو۔۔مگر پھر بھی ھاتھوں میں گرتی ھویؑ دیوار کی
تعمیر کا جذبہ ھو۔۔۔یہ پردیس کی سردیوں میں بھی دیس کا سورج ڈھونڈ لیتے ھیں ۔ قطرہ قطرہ پگھلتی ھوی برف اور سرد ھوا کے تپھیڑوں میں بھی یہ لوگ دھیمی رفتار چلتے ہیں۔یہ لوگ بہت کم پھسلتے ہیں،کیونکہ انہیں سنگ مرمر سے ذیادہ اپنی مٹی پر چلنے کا سلیقہ ھوتا ھے۔۔ ایسے لوگوں کو بس جلدی گھر لوٹنے کی ھوتی ھے ۔۔۔۔